1 AI
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: لاَ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا, وَلاَ تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا, أَوَلاَ أَدُلُّكُم عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُم, أَفْشُوا السَّلاَمَ بَيْنَكُمْ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جنت میں داخل نہ ہوگے یہاں تک کہ ایمان لاؤ، اور تم (کامل) مومن نہ ہوگے یہاں تک کہ آپس میں محبت کرو۔ کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ اگر تم اُسے کرو تو آپس میں محبت کرنے لگو؟ آپس میں سلام پھیلاؤ۔
ماخذ: Muslim 1/74.
2 AI
ثَلاَثٌ مَنْ جَمَعَهُنَّ فَقَدْ جَمَعَ الْإِيمَانَ: الْإِنْصَافُ مِنْ نَفْسِكَ, وَبَذْلُ السَّلاَمِ لِلْعَالَمِ, وَالْإِنْفَاقُ مِنَ الإِقْتَارِ
تین (خصلتیں ایسی ہیں کہ) جس نے اُنہیں جمع کر لیا، اُس نے ایمان (کے تقاضے) جمع کر لیے: اپنے آپ سے انصاف کرنا، تمام جہان والوں کو سلام پیش کرنا، اور تنگ دستی کے باوجود خرچ کرنا۔
ماخذ: Al-Bukhari.
3 AI
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أنَّ رَجُلاً سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أيُّ الْإِسْلاَمِ خَيْرٌ قَالَ: تُطْعِمُ الطَّعَامَ, وَتَقْرأُ السَّلاَمَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا اسلام (یعنی عمل) بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: تُو کھانا کھلائے، اور جسے تُو جانتا ہو اور جسے نہ جانتا ہو (سب کو) سلام کرے۔
ماخذ: Al-Bukhari, Muslim 1/65.