بِسْمِ اللَّهِ, وَالْحَمْدُ للَّهِ, سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ, وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ, (الْحَمْدُ لِلَّهِ, الْحَمْدُ لِلَّهِ, الْحَمْدُ لِلَّهِ, اللَّهُ أَكْبَرُ, اللَّهُ أَكْبَرُ, اللَّهُ أَكْبَرُ, سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي؛ فَإِنَّهُ لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ)
(سواری پر بیٹھتے وقت) «بِسْمِ اللہ» (اللہ کے نام سے)، پھر «اَلْحَمْدُ لِلّٰہ» (تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں)، پھر: «پاک ہے وہ ذات جس نے اِس (سواری) کو ہمارے بس میں کر دیا، حالانکہ ہم اِسے قابو میں لانے والے نہ تھے، اور بے شک ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں»۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے (تین بار)، اللہ سب سے بڑا ہے (تین بار)، پھر: «تُو پاک ہے، اے اللہ! بے شک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، پس مجھے بخش دے، کیونکہ تیرے سوا گناہوں کو کوئی نہیں بخشتا»۔
ماخذ: Abu Dawud 3/34, At-Tirmizi 5/501.