اللَّهُ أَكْبَرُ, اللَّهُ أَكْبَرُ, اللَّهُ أَكْبَرُ, سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ * وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ, (اللَّهُمَّ إِنّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا البِرَّ وَالتَّقْوَى, وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى, اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ, اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ, وَالْخَليفَةُ فِي الْأَهْلِ, اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ, وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ, وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ), وإذا رَجَعَ قَالَهُنَّ وَزَادَ فِيهِنَّ: (آيِبُونَ, تائِبُونَ, عَابِدُونَ, لِرَبِّنَا حَامِدُونَ)
اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اِس (سواری) کو ہمارے بس میں کر دیا، حالانکہ ہم اِسے قابو میں لانے والے نہ تھے، اور بے شک ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اے اللہ! ہم اپنے اِس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ کا، اور ایسے عمل کا سوال کرتے ہیں جس سے تُو راضی ہو۔ اے اللہ! ہم پر ہمارا یہ سفر آسان فرما دے اور اِس کی دوری ہم سے لپیٹ دے۔ اے اللہ! سفر میں تُو ہی ساتھی ہے اور گھر والوں میں (پیچھے) تُو ہی نگہبان ہے۔ اے اللہ! میں سفر کی مشقت سے، رنجیدہ کر دینے والے منظر سے، اور مال اور گھر والوں میں بُری واپسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ (اور واپسی پر یہی کلمات کہے اور اُن میں یہ اضافہ کرے:) ہم لوٹنے والے، توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے اور اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں۔
ماخذ: Muslim 2/978.