1 AI
رَكِبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْقَصْوَاءَ حَتَّى أَتَى الْمَشْعَرَ الْحَرَامَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ (فَدَعَاهُ, وَكَبَّرَهُ, وَهَللَّهُ, وَوَحَّدَهُ) فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفاً حَتَّى أَسْفَرَ جِدَّاً فَدَفَعَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمسُ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی قصواء پر سوار ہوئے یہاں تک کہ مشعرِ حرام پہنچے، پھر قبلہ رخ ہوئے، (اللہ سے دعا کی، اُس کی بڑائی، تہلیل اور توحید بیان کی) اور کھڑے رہے یہاں تک کہ خوب روشنی ہو گئی، پھر سورج نکلنے سے پہلے روانہ ہو گئے۔
ماخذ: Muslim 2/891.